پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی منہاج یونیورسٹی لاہور میں فنِ خطابت و ابلاغ کی منعقدہ ورکشاپ "الناطق" میں خصوصی شرکت و خطاب
علم و نطق کا فیض استاد کی نسبت اور تربیت سے حاصل ہوتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری

لاہور: پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل نے الناطق، حسان بن ثابت نعت انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبان سے ادا ہونے والا ہر حرف ایک امانت ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری سب سے پہلے خود متکلم پر عائد ہوتی ہے، جبکہ اللہ رب العزت کے مقرر کردہ فرشتے بھی انسان کے الفاظ کو محفوظ کر رہے ہوتے ہیں۔ انسان کا ہر کلام ریکارڈ ہو رہا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں پیش کیا جا سکتا ہے جو الفاظ کسی مقصد کے لیے ادا ہوں وہ کلام کہلاتے ہیں اور جب خبر کسی باخبر تک پہنچائی جائے تو وہ بیان ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں کلام، قول، بیان، بلاغ، لسان، نطق اور نبا جیسے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زبان سے پہلے سماعت عطا فرمائی، لہٰذا جس کلام میں سماعت اور بصیرت نہ ہو وہ حکمت سے خالی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن پہلے نازل ہوا اور انسان بعد میں پیدا کیا گیا، جس سے اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمانیت اور تعلیم کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نطقِ مصطفی ﷺ دراصل وحیِ الٰہی کا مظہر ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے بلکہ منشائے الٰہی کے مطابق گفتگو کرتے ہیں۔ یہی ادبِ زبان ہے کہ انسان اپنی خواہش کے بجائے حق اور خیر کے تابع ہو کر بولے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو عطا کیے گئے علم الاسماء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علم و نطق کا فیض استاد کی نسبت اور تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ فرشتوں کا “لا علم لنا” کہنا ادبِ علم کی اعلیٰ مثال ہے۔ اسی طرح امام مالکؒ کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقی عالم وہی ہے جو اپنی حدود کو پہچانے اور ضرورت پڑنے پر “لا أدری” کہنے میں عار محسوس نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ اظہارِ خیال میں الفاظ کا انتخاب نہایت حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ بولنے کی صلاحیت ابلیس کے پاس بھی تھی مگر ادب نہ ہونے کے باعث وہ مردود ٹھہرا۔ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔
اس موقع پر سید ڈاکٹر رضا بخاری، ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی، صفدر علی محسن، سید شکیل انجم گیلانی، حافظ محمد ارشد نقشبندی، مظہر محمود علوی، ناصر محمود، اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔





























تبصرہ